حدیث ۶۹۶۶
صحیح مسلم : ۶۹۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۶۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَقَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ ، قَالَ : وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : نَافَقَ حَنْظَلَةُ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ ، فَنَسِينَا كَثِيرًا ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي ، وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
سیدنا حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ محرروں میں سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، انہوں نے کہا: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور پوچھا: کیسا ہے تو اے حنظلہ! میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہو گیا (یعنی بے ایمان)۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سبحان اللہ! تو کیا کہتا ہے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو یاد دلاتے ہیں دوزخ اور جنت کی گویا دونوں ہماری آنکھ کے سامنے ہیں، پھر جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل جاتے ہیں تو بیبیوں، اولاد اور کاروبار میں مصروف ہو جاتے ہیں تو بہت بھول جاتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ہمارا بھی یہی حال ہے، پھر میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! حنطلہ منافق ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا مطلب ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہم کو یاد دلاتے ہیں دوزخ اور جنت کی گویا دونوں ہماری آنکھ کے سامنے ہیں، پھر جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو بیبیوں، بچوں اور کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور بہت باتیں بھول جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم سدا بنے رہو اسی حال پر جس طرح میرے پاس رہتے ہو اور یاد الہٰی میں رہو البتہ فرشتے تم سے مصافحہ کریں تمہارے بستروں پر اور تمہاری راہوں میں۔ لیکن اے حنطلہ! ایک ساعت دنیا کا کاروبار اور ایک ساعت یاد پروردگار۔“ تین بار یہ فرمایا۔
