حدیث ۷۰۵۹

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۵۹

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، " إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَقَالُوا : مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ ، فَقَالُوا : سَلُوهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ ، قَالَ : فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، قَالَ : فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ ، قَالَ : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 " ،

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا، ایک کھیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی پر ٹیکا دئیے ہوئے تھے، اتنے میں چند یہودی ملے، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان سے پوچھو روح کے متعلق۔ دوسرے نے کہا: تمہیں کیا شبہ ہے جو پوچھتے ہو ایسا نہ ہو وہ کوئی بات ایسی کہیں جو تم کو بری معلوم ہو۔ پھر انہوں نے کہا: پوچھو۔ آخر کچھ لوگ ان میں سے اٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور پوچھا: روح کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ میں سمجھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آ رہی ہے۔ میں اسی جگہ کھڑا ہو رہا جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» (۱۷-الإسراء: ٨٥) یعنی ”پوچھتے ہیں تجھ سے روح کو تو کہہ روح پروردگار کا ایک حکم ہے اور تم نہیں دئیے گئے علم مگر تھوڑا۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں