حدیث ۷۰۶۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۶۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 ، قَالَ : يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ ، فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ ، أَنْ يَقُولَ : لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمُضَرَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا ، فَقَالَ : لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ سورة الدخان آية 15 ، قَالَ : فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ ، قَالَ : عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ { 10 } يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ { 11 } سورة الدخان آية 10-11 يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 16 ، قَالَ : يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ " .

‏‏‏‏ مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میں مسجد میں ایک ایسے آدمی کو چھوڑ آیا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرتا ہے۔ وہ اس آیت: «يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ» کہ جس دن آسمان پر واضح دھواں ظاہر ہو گا کی تفسیر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت کے دن دھواں لوگوں کی سانسوں کو بند کر دے گا۔ یہاں تک کہ ان کی زکام کی سی کیفییت ہو جائے گی۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی کسی بات کا علم رکھتا ہے، وہ وہی بات کہے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پس بے شک آدمی کی عقلمندی یہ ہے کہ وہ جس بات کا علم نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہے: «الله اعلم» ۔ ان قریشیوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف قحط پڑنے کی دعا کی جیسے کہ یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط اور مصیبت و تنگی آئی تھی۔ یہاں تک کہ جب کوئی آدمی آسمان کی طرف نظر کرتا تو اپنے اور آسمان کے درمیان اپنی مصیبت کی وجہ سے دھواں دیکھتا تھا اور یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیوں کو کھایا۔ پس ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مضر قبیلہ کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ پس بےشک وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے مضر کے لیے بڑی جرأت کی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا مانگی تو اللہ ربّ العزت نے یہ آیت اتاری: «إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ» (۴۴-الدخان: ۱۵) ”ہم چند دنوں کے لیے عذاب روکنے والے ہیں لیکن تم پھر وہی کام سرانجام دو گے۔“ کہتے ہیں پس ان پر بارش برسائی گئی۔ پس وہ خوشحال ہوگئے تو پھر وہ اسی بدعقیدگی کی طرف لوٹ گئے جس پر پہلے سے قائم تھے تو اللہ نے یہ آیات اتاری «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَـٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ» آخر تک ”ہم بدلہ لیں گے“ یعنی بدر کے دن۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں