حدیث ۷۱۲۷
صحیح مسلم : ۷۱۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ ، فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، فَقُلْنَا : أَعْلِمْهُ بِمَكَانِنَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنِّي أُخْبَرُ بِمَكَانِكُمْ ، فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا " ،
شقیق سے روایت ہے، ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے تھے ان کا انتظار کرتے ہوئے، اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی نکلے، ہم نے اس کو کہا: عبداللہ کو ہماری اطلاع کر، پس وہ گیا پھر نکلے عبداللہ اور کہنے لگے کہ مجھ کو خبر ہوتی ہے تمہارے آنے کی پھر میں نہیں نکلتا صرف اس خیال سے کہ کہیں تم کو میرے وعظ سے ملال نہ ہو (یعنی سنتے سنتے بیزار نہ ہو جاؤ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو وعظ سنانے کے لیے موقع اور وقت ڈھونڈتے (یعنی ہماری خوشی کا موقع) دنوں میں اس ڈر سے کہ ہم کو بار نہ ہو۔ (اس لیے کہ اگر دل نہ لگا اور وعظ سنا تو فائدہ کیا بلکہ گنہگار ہونے کا ڈر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ واعظ کو اسی وقت تک وعظ کہنا چاہیے اور قاری کو اتنا ہی قرآن پڑھنا چاہیے جہاں تک لوگ خوشی سے سنیں اور ان کا دل لگے اور ان پر بار نہ ہو)۔
