حدیث ۷۱۸۱
صحیح مسلم : ۷۱۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۸۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُجَاءُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ " زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ " فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ " وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ ، فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ ، وَيَقُولُونَ : نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ ، قَالَ : وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ ، قَالَ : فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ ، وَيَقُولُونَ : نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ ، قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ ، قَالَ : ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ سورة مريم آية 39 وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الدُّنْيَا " ،
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو لائیں گے ایک سفید میں مینڈھے کی شکل میں اور جنت اور دوزخ کے میں بیچ اس کو ٹھہرا دیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اپنا سر اٹھائیں گے اور اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں ہم پہچانتے ہیں، یہ موت ہے۔ پھر کہا جائے گا: اے دوزخ والو! تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے اور کہیں گے: ہاں ہم پہچانتے ہیں یہ موت ہے۔ پھر حکم ہو گا وہ مینڈھا ذبح کیا جائے گا۔ پھر کہا: جائے گا: اے جنت والو! تم کو ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو! تم کو ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہیں ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» (۱۹-مریم: ٣٩) ”اور ڈرا ان کو افسوس کے دن سے جب فیصلہ ہو جائے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ یقین نہیں کرتے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف۔ (یعنی دنیا میں ایسے مشغول ہیں کہ قیامت کا ڈر نہیں)۔
