حدیث ۷۱۹۱
صحیح مسلم : ۷۱۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا ، فَقَالَ : " إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ " ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ، ثُمَّ قَالَ : " إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ " . فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ ، فَقَالَ : " إِلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ " .
سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر کیا اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اس اونٹنی کو زخمی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اٹھا اس قوم میں سے بڑا بدبخت۔ اٹھا اس کام کے لیے ایک شخص عزت والا شریر، مفسد، خبیث، اپنے کنبہ کا زور رکھنے والا جیسے ابوزمعہ ہے۔“ پھر عورتوں کا ذکر کیا اور ان کے مقدمہ میں نصیحت کی فرمایا: کس واسطے تم میں سے کوئی اپنی عورت کو مارتا ہے جیسے لونڈی یا غلام کو مارتا ہے اور شاید وہ اسی دن شام کو اس کو اپنے پاس سلائے۔“ (تو شام کو محبت اور دن کو ایسی سخت مار نہایت نامناسب ہے)۔ پھر لوگوں کو نصیحت کی گوز پر ہنسنے سے اور فرمایا: ”کیوں تم میں سے کوئی ہنستا ہے اس کام پر جو خود بھی کرتا ہے۔“ (یعنی ہوا کا صادر ہونا ضروری ہے اور ہر ایک آدمی گوز لگاتا ہے پھر دوسرے پر ہنسنا نادانی ہے)۔
