حدیث ۷۱۹۴
صحیح مسلم : ۷۱۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۹۴
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو قسمیں ہیں دوزخیوں کی جن کو میں نے نہیں دیکھا (یعنی دنیا میں ابھی وہ پیدا نہیں ہوئے) ایک تو وہ لوگ جن کے پاس کوڑے ہیں بیل کی دموں کی طرح اور لوگوں کو ان سے مارتے ہیں(ظلم سے) اور ایک عورتیں ہیں جو کپڑا پہننے پر بھی ننگی ہیں (یا اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے مگر وہ شکر نہیں کرتیں) خاوند کو سیدھے راستہ سے بہکانے والیاں خود بہکنے والیاں (یا مٹکتے ہوئے چلنے والیاں، مٹکاتے ہوئے اپنے کندھوں کو اتراتے ہوئے) ان کے سر گویا بختی اونٹوں کے کوہان ہیں (جوڑا بڑا کرنے والیاں کپڑا موباف لگا کر) ایک طرف جھکے ہوئے، وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی دور سے آتی ہے۔“ (یہ عورتیں کافر ہوں گی اگر ان باتوں کو حلال سمجھ کر کرتی ہوں ورنہ مراد یہ ہے کہ اول دہلہ میں ان کو جنت نصیب نہ ہو گی)۔
