حدیث ۷۲۰۱
صحیح مسلم : ۷۲۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۲۰۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 ، أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي ، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ، فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ، إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118 ، قَالَ : فَيُقَالُ لِي : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ " ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَمُعَاذ ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہم میں وعظ کا خطبہ (اس سے معلوم ہوا کہ وعظ کھڑے ہو کر کہنا درست ہے) تو فرمایا: ”اے لوگو! تم اللہ کی طرف حشر کیے جاؤ گے ننگے پاؤں، بن ختنہ جیسے ہم نے پیدا کیا اول بار ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے۔ یہ وعدہ ہے ہمارا جس کو ہم کرنے والے ہیں۔ خبردار رہو! سب سے پہلے تمام مخلوقات میں ابراہیم علیہ السلام کو قیامت کے دن کپڑے پہنائے جائیں گے اور آگاہ رہو کہ میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر ان کو بائیں طرف ہٹایا جائے گا (کافروں کی طرف) میں عرض کروں گا: اے مالک میرے! یہ تو میرے اصحاب ہیں۔ جواب میں کہا جائے گا: تم نہیں جانتے انہوں نے کیا کچھ کیا تمہارے بعد۔ تو میں وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا: میں تو ان لوگوں پر اس وقت تک گواہ تھا جب تک ان میں تھا، پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تُو ان پر نگہبان تھا (اور مجھ کو ان کا علم نہ رہا) اور تو ہر چیز پر گواہ ہے (یعنی تیرا علم سب جگہ ہے)۔ اگر تو ان کو عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور جو تو ان کو بخش دے تو، تو غالب ہے حکمت والا۔ پھر مجھ سے کہا: جائے گا یہ لوگ مرتد ہو گئے (یعنی اسلام سے پھر گئے) جب تو ان سے جدا ہوا۔“
