حدیث ۷۲۲۳
صحیح مسلم : ۷۲۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۲۲۳
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا " ، فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّى يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا ؟ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا " ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ " ،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مقتولین کو تین روز تک یوں ہی پڑا رہنے دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو آواز دی تو فرمایا: ”اے ابوجہل بن ہشام اور اے امیہ بن خلف اور اے عتبہ بن ربیعہ اور اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے پایا جو اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا؟ کیونکہ میں نے تو پایا جو اللہ نے مجھ سے سچا وعدہ کیا تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا سنا، تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیا سنتے ہیں اور کب جواب دیتے ہیں؟ یہ تو مردار ہو کر سڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں جو کہہ رہا ہوں اس کو تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے البتہ یہ اور بات ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ کھینچے گئے اور بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے۔
