حدیث ۷۳۵۰

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۵۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا ، وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ ، فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ ، قَالَ : وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي ، فَقُلْتُ : إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ ، فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ ، قَالَ : فَفَعَلَ ، قَالَ : فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ ، فَقَالَ : اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ ، مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ ، أَوَ قَالَ : آخُذَ عَنْ يَدِهِ ، فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا ، فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ، ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ كَافِرٌ ، وَأَنَا مُسْلِمٌ ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ ، وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ ، وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم حج کو یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد تھا۔ ایک منزل میں ہم اترے، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے، مجھے اس سے سخت وحشت ہوئی اس وجہ سے کہ لوگ اس کے باب میں جو کہا کرتے تھے (کہ دجال ہے)۔ ابن صیاد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا (مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی)۔ میں نے کہا: گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا، پھر بکریاں ہم کو دکھلائی دیں۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا: ابوسعید دودھ پی۔ میں نے کہا: گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور کوئی وجہ نہ تھی کہ میں دودھ نہ پیوں۔ صرف یہی کہ برا معلوم ہوا اس کے ہاتھ سے پینا۔ ابن صائد نے کہا: اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے تئیں پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے؟کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”دجال کافر ہو گا۔“ میں تو مسلمان ہوں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”کہ دجال لاولد ہو گا۔“ اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”دجال مدینہ اور مکہ میں نہ جائے گا۔“ اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں۔ ابوسعید نے کہا: (اس نے ایسی باتیں کیں کہ) میں قریب تھا کہ اس کا طرف دار بن جاؤں (اور لوگوں کا کہنا اس کے باب میں غلط سمجھوں)، پھر کہنے لگا: البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے۔ میں نے اس سے کہا: خرابی ہو تیرے سارے دن پر۔ (یعنی یہ تو نے کیا کہا پھر مجھے تیری نسبت شبہ ہو گیا)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں