حدیث ۷۳۵۹
صحیح مسلم : ۷۳۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۵۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَائِدٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ ، فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلَأَ السِّكَّةَ ، فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنْ ابْنِ صَائِدٍ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا " .
نافع سے روایت ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن صیاد سے ملے مدینہ کی کسی راہ میں تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی بات ایسی کہی جس سے ابن صیاد کو غصہ آ گیا۔ وہ اتنا پھولا کہ راہ بند ہو گئی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گے ان کو یہ خبر پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے تو نے ابن صیاد کو کیوں چھیڑا۔ تجھ کو نہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال جب نکلے گا تو اسی وجہ سے کہ غصے ہو گا .“ (تو شاید ابن صیاد دجال ہو اور تیرے غصہ دلانے کی وجہ سے نکل پڑے)۔
