حدیث ۷۳۷۷
صحیح مسلم : ۷۳۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۷۷
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : أَيْنَ تَعْمِدُ ، فَيَقُولُ : أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ ، قَالَ : فَيَقُولُونَ لَهُ : أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا ؟ ، فَيَقُولُ : مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ ، فَيَقُولُونَ : اقْتُلُوهُ ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ ؟ ، قَالَ : فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ ، فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ ، فَيَقُولُ : خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ ، قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : قُمْ فَيَسْتَوِي قَائِمًا ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي ؟ ، فَيَقُولُ : مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ ، فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا ، فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، قَالَ : فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص اس کی طرف چلے گا۔ راہ میں اس کو دجال کے ہتھیار بند لوگ ملیں گے وہ اس سے پوچھیں گے: تو کہاں جاتا ہے؟ وہ بولے گا: میں اسی شخص کے پاس جاتا ہوں جو نکلا ہے۔ وہ کہیں گے: تو کیا ہمارے مالک پر ایمان نہیں لایا؟ وہ کہے گا: ہمارا مالک چھپا ہوا نہیں ہے۔ دجال کے لوگ کہیں گے: اس کو مارڈالو۔ پھر آپس میں کہیں گے: ہمارے مالک نے تو منع کیا ہے کسی کو مارنے سے جب تک اس کے سامنے نہ لے جائیں، پھر اس کو لے جائیں گے دجال کے پاس۔ جب وہ دجال کو دیکھے گا تو کہے گا: اے لوگو! یہ دجال ہے جس کی خبر دی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ دجال حکم دے گا اپنے لوگوں کو اس کو پکڑو اس کا سر پھوڑو اس کے پیٹ اور پیٹھ پر بھی مار پڑے گی، پھر دجال اس سے پوچھے گا: تو میرے اوپر یقین نہیں کرتا (یعنی میری ربوبیت پر) وہ کہے گا: تو جھوٹا مسیح ہے۔ پھر دجال حکم دے گا وہ چیرا جائے گا آرے سے، سر سے لے کر دونوں پاؤں تک یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو جائے گا۔ پھر دجال ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں جائے گا اور کہے گا اٹھ کھڑا ہو۔ وہ شخص(زندہ ہو کر) سیدھا اٹھ کھڑا ہو گا، پھر اس سے پوچھے گا: اب تو میرے اوپر ایمان لایا؟ وہ کہے گا مجھے تو اور زیادہ یقین ہوا کہ تو دجال ہے۔ پھر لوگوں سے کہے گا: اے لوگو! اب دجال میرے سوا کسی اور سے یہ کام نہ کرے گا (یعنی اب کسی کو نہیں جلا سکتا)، پھر دجال اس کو پکڑے گا ذبح کرنے کے لیے وہ اس کے گلے سے لے کہ ہنسلی تک تانبے کا بن جائے گا۔ وہ ذبح نہ کر سکے گا۔ پھر اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ پھینک دے گا۔ لوگ سمجھیں گے کہ آگ میں اس کو پھینک دیا حالانکہ وہ جنت میں ڈالا جائے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص سب لوگوں سے بڑا شہید ہے رب العٰلمین میں کے نزدیک۔“
