حدیث ۷۴۳۱
صحیح مسلم : ۷۴۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۴۳۱
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ ، وَأَقْرَعَ ، وَأَعْمَى ، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا ، فَأَتَى الْأَبْرَصَ ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : لَوْنٌ حَسَنٌ ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ ، فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْإِبِلُ أَوَ قَالَ : الْبَقَرُ شَكَّ إِسْحَاقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ : الْبَقَرُ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : فَأَتَى الْأَقْرَعَ ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : شَعَرٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْبَقَرُ ، فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا ، فَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : فَأَتَى الْأَعْمَى ، فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ ، قَالَ : الْغَنَمُ ، فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا ، فَأُنْتِجَ هَذَانِ وَوَلَّدَ هَذَا ، قَالَ : فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ : قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا ، أَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي ؟ ، فَقَالَ : الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ ، فَقَالَ لَهُ : كَأَنِّي أَعْرِفُكَ ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا ، فَأَعْطَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا ، عَنْ كَابِرٍ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا ، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فَقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلَا بَلَاغَ لِي الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً ، أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي ؟ ، فَقَالَ : قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي ، فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ ، فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ مَالَكَ ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے لوگوں میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی سفید داغ والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا، سو اللہ نے چاہا کہ ان کو آزمائے تو ان کے پاس فرشتہ بھیجا سو وہ سفید داغ والے کے پاس آیا پھر اس نے کہا: کہ تجھ کو کون سی چیز بہت پیاری ہے؟ اس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھی کھال اور مجھ سے یہ بیماری دور ہو جائے جس کے سبب لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فرشتہ نے اس پر ہاتھ ملا سو اس کی گھن دور ہو گئی اور اس کو اچھا رنگ اور اچھی کھال دی گئی۔ فرشتہ نے کہا: کون سا مال تجھ کو بہت پسند ہے؟ اس نے کہا: اونٹ یا گائے۔“ اسحاق بن عبداللہ اس حدیث کے ایک راوی کو شک پڑ گیا کہ اس نے اونٹ مانگا یا گائے، لیکن سفید داغ والے یا گنجے نے ان میں سے ایک نے اونٹ کہا، دوسرے نے گائے، سو اس کو دس مہینے کی گابھن اونٹنی دی۔ پھر کہا: اللہ تعالیٰ تیرے واسطے اس میں برکت دے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتہ پھر گنجے کے پاس آیا سو کہا: کون سی چیز تجھ کو بہت پسند آتی ہے؟ اس نے کہا: اچھے بال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کے سبب سے لوگ مجھ سے گھناتے ہیں۔ پھر اس نے اس پر ہاتھ ملا سو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کو اچھے بال ملے۔ فرشتہ نے کہا: کہ کون سا مال تجھ کو بھاتا ہے۔ اس نے کہا کہ گائے؟ سو اس کو گابھن گائے ملی۔ فرشتہ نے کہا: اللہ تیرے مال میں برکت دے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا سو کہا کہ تجھ کو کون سی چیز بہت پسند ہے؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ میری آنکھ میں روشنی دے تو میں اس کے سبب لوگوں کو دیکھوں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتہ نے اس پر ہاتھ ملا سو اس کو اللہ تعالیٰ نے روشنی دی۔ فرشتہ نے کہا کہ کون سا مال تجھ کو بہت پسند ہے؟ اس نے کہا: بھیڑ بکری۔ تو اس کو گابھن بکری ملی۔ پھر اونٹنی اور گائے اور بکری بھی جنی۔ پھر ہوتے ہوتے سفید داغ والے کے جنگل بھر اونٹ ہو گئے اور گنجے کے جنگل بھر گائے بیل ہو گئے اور اندھے کے جنگل بھر بکریاں ہو گئیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعد مدت کے وہی فرشتہ سفید داغ والے کے پاس اپنی اگلی صورت اور شکل میں آیا، سو اس نے کہا کہ میں محتاج آدمی ہوں سفر میں میرے تمام اسباب کٹ گئے (یعنی تدبیریں جاتی رہیں اور مال اور اسباب نہ رہا) سو آج منزل پر پہنچنا مجھ کو ممکن نہیں بدوں اللہ کی مدد کے پھر بدوں تیرے کرم کے۔ میں تجھ سے مانگتا ہوں اسی کے نام پر جس نے تجھ کو ستھرا رنگ اور ستھری کھال اور مال اونٹ دئیے، ایک اونٹ دے جو میرے سفر میں کام آئے۔ اس نے اس سے کہا: لوگوں کے حق مجھ پر بہت ہیں (یعنی قرضدار ہوں یا گھربار کے خرچ سے مال زیادہ نہیں جو تجھ کو دوں)۔ پھر فرشتہ نے کہا: البتہ میں تجھ کو پہچانتا ہوں بھلا کیا تو محتاج کوڑھی نہ تھا کہ تجھ سے لوگ گھناتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تجھ کو یہ مال دیا۔ اس نے جواب دیا: کہ میں نے تو یہ مال اپنے باپ دادا سے پایا ہے جو کئی پشت سے بڑے آدمی تھے۔ فرشتہ نے کہا: اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھ کو ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اسی اپنی صورت اور شکل میں پھر اس سے کہا: جیسا سفید داغ والے سے کہا تھا۔ اس نے وہی جواب دیا جو سفید داغ والے نے دیا تھا۔ فرشتہ نے کہا: اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھ کو ویسا ہی کر ڈالے جیسا تو تھا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور فرشتہ اندھے کے پاس گیا اپنی اسی صورت اور شکل میں پھر فرشتہ نے کہا: میں محتاج آدمی اور مسافر ہوں میرے سفر میں سب وسیلے اور تدبیریں کٹ گئیں سو مجھ کو آج منزل پر پہنچنا بغیر اللہ کی مدد اور تیرے کرم کے مشکل ہے۔ سو میں تجھ سے اس اللہ کے نام پر جس نے تجھ کو آنکھ دی ایک بکری مانگتا ہوں کہ میرے سفر میں وہ کام آئے۔ اس نے کہا: بے شک میں اندھا تھا اللہ نے مجھ کو آنکھ دی تو لے جا ان بکریوں میں سے جتنا تیرا جی چاہے اور چھوڑ جا بکریوں میں سے جتنا تیرا جی چاہے۔ اللہ کی قسم! آج جو چیز تو اللہ کی راہ میں لے گا میں تجھ کو مشکل میں نہیں ڈالوں گا (یعنی تیرا ہاتھ نہ پکڑوں گا) سو فرشتہ نے کہا: اپنا مال رہنے دے تم تینوں آدمی صرف آزمائے گئے تھے۔ سو تجھ سے تو البتہ اللہ راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔“
