حدیث ۷۴۳۹
صحیح مسلم : ۷۴۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۴۳۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ؟ ، قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ ، يَقُولُ يَا رَبِّ : أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ : بَلَى ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي ، قَالَ : فَيَقُولُ : كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا ، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا ، قَالَ : فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِي ، قَالَ : فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ ، قَالَ : فَيَقُولُ : بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا ، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو میں کسی واسطے ہنستا ہوں؟“ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہنستا ہوں بندے کی گفتگو پر جو وہ اپنے مالک سے کرے گا۔ بندہ کہے گا: اے مالک میرے! کیا تو مجھ کو پناہ نہیں دے چکا ہے ظلم سے۔“ (یعنی تو نے وعدہ کیا ہے کہ ظلم نہ کروں گا)؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جواب دے گا: ہاں ہم ظلم نہیں کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بندہ کہے گا کہ میں جائز نہیں رکھتا کسی کی گواہی اپنے اوپر سوائے اپنی ذات کی گواہی کے۔ پروردگار فرمائے گا: اچھا تیری ہی ذات کی گواہی تجھ پر آج کے دن کفایت کرتی ہے اور کراماً کاتبین کی گواہی۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مہر لگ جائے گی بندہ کے منہ پر اور اس کے ہاتھ پاؤں سے کہا جائے گا، تم بولو! وہ اس کے سارے اعمال بول دیں گے۔ پھر بندہ کو بات کرنے کیا جازت دی جائے گی، بندہ اپنے ہاتھ پاؤں سے کہے گا: چلو دور ہو جاؤ اللہ کی مار تم پر میں تو تمہارے لیے جھگڑا کرتا تھا۔“ (یعنی تمہارا ہی بچانا دوزخ سے مجھ کو منظور تھا سو تم آپ ہی گناہ کا اقرار کر چکے ہو اب دوزخ میں جاؤ)۔
