حدیث ۷۴۸۸
صحیح مسلم : ۷۴۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۴۸۸
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي ، فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا ، قَالَتْ : عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ ، وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ ، وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ ، فَشَمَّتُّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمِّتُوهُ فَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ " .
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں سیدنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے گھر میں تھے (ام کلثوم ان کا نام تھا پہلے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں جب انہوں نے طلاق دے دی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا) میں چھینکا تو ابوموسٰی نے جواب نہ دیا (یعنی «يرحمك الله» نہ کہا:) پھر وہ چھینکیں تو ان کو جواب دیا۔ میں اپنی ماں کے پاس گیا اور ان سے یہ حال بیان کیا۔ جب ابوموسٰی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو میری ماں نے ان سے کہا: میرا بیٹا چھینکا تو تم نے جواب نہ دیا اور وہ عورت چھینکی تو تم نے جواب دیا ابوموسٰی نے کہا: تیرا بیٹا چھینکا تو اس نے «الحمد لله» نہیں کہا: اس لیے میں نے جواب نہیں دیا اور وہ عورت چھینکی اس نے «الحمد لله» کہا: تو میں نے جواب دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کوئی چھینکے پھر اللہ کا شکر کرے (یعنی «الحمد لله» کہے) تو اس کو جواب دو جو «الحمد لله» نہ کہے اس کو جواب مت دو۔“
