حدیث ۷۵۱۹
صحیح مسلم : ۷۵۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۵۱۹
قَالَ : فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا جَابِرُ نَادِ بِوَضُوءٍ ، فَقُلْتُ : أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُبَرِّدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ عَلَى حِمَارَةٍ مِنْ جَرِيدٍ ، قَالَ : فَقَالَ لِيَ : انْطَلِقْ إِلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ ، فَنَظَرْتُ فِيهَا فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ ، قَالَ : اذْهَبْ ، فَأْتِنِي بِهِ ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَيَغْمِزُهُ بِيَدَيْهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهِ ، فَقَالَ يَا جَابِرُ : نَادِ بِجَفْنَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ ، فَأُتِيتُ بِهَا تُحْمَلُ ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي الْجَفْنَةِ هَكَذَا ، فَبَسَطَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ وَضَعَهَا فِي قَعْرِ الْجَفْنَةِ ، وَقَالَ : خُذْ يَا جَابِرُ فَصُبَّ عَلَيَّ ، وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : بِاسْمِ اللَّهِ ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ فَارَتِ الْجَفْنَةُ وَدَارَتْ حَتَّى امْتَلَأَتْ ، فَقَالَ يَا جَابِرُ : نَادِ مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ ، قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ ؟ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَى ،
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم لشکر میں آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! لوگوں میں پکارو، وضو کریں۔ میں نے آواز دی، وضو کرو، وضو کرو، وضو کرو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قافلہ میں ایک قطرہ پانی کا نہیں ہے اور ایک انصاری مرد تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی ٹھنڈا کیا کرتا تھا ایک پرانی مشک میں جو لکڑی کی شاخوں پر لٹکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد انصاری کے پاس جا اور دیکھ اس کی مشک میں کچھ پانی ہے۔“ میں گیا دیکھا تو مشک میں پانی نہیں ہے صرف ایک قطرہ پانی ہے اس کے منہ میں۔ اگر میں اس کو انڈیلوں تو سوکھی مشک اس کو بھی پی جائے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مشک میں تو پانی نہیں ہے صرف ایک قطرہ ہے اس کے منہ میں اگر میں اس کو انڈیلوں تو سوکھی مشک اس کو بھی پی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اور اس مشک کو میرے پاس لے آ۔“ میں اس مشک کو لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر زبان مبارک سے کچھ فرمانے لگے جس کو میں نہ سمجھا اور مشک کو اپنے ہاتھ سے دباتے جاتے تھے، پھر وہ مشک میرے حوالے کی اور فرمایا: ”اے جابر! آواز دے کہ قافلہ کا گڑھا لاؤ۔“ (یعنی بڑا ظروف پانی کا)، میں نے آواز دی، وہ لایا گیا، لوگ اس کو اٹھا کر لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کو رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گڑھے میں پھرایا اس طرح سے پھیلا کر اور انگلیوں کو کشادہ کیا پھر اپنا ہاتھ اس کی تہہ میں رکھ دیا اور فرمایا: ”اے جابر! وہ مشک لے اور میرے ہاتھ پر ڈال دے اور بسم اللہ کہہ کے ڈالنا۔“ میں نے بسم اللہ کہہ کر وہ پانی ڈال دیا، پھر میں نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی جوش مار رہا تھا یہاں تک کہ گڑھے نے جوش مارا اور گھوما اور بھر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! آواز دے جس کو پانی کی حاجت ہو۔(وہ آئے)“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ آئے اور پانی لیا یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے۔ میں نے کہا: کوئی ایسا بھی رہا جس کو پانی کی احتیاج ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ گڑھے میں سے اٹھا لیا اور وہ پانی سے بھرا ہوا تھا۔
