حدیث ۷۵۲۸
صحیح مسلم : ۷۵۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۵۲۸
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا ، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا ، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ : وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي ، قَالَ اللَّهُ فِيهَا : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ ، قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " ،
عروہ بن الزبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا: (سورۂ نساء کے شروع میں) «وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» (۴-النساء: ۳) اخیر تک۔ یعنی ”اگر تم ڈرو کہ انصاف نہ کر سکو گے یتیم لڑکیوں میں تو نکاح کرو ان عورتوں سے جو پسند آئیں تم کو دو دو، تین تین، چار چار۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں: مراد اس آیت سے اے میرے بھانجے! یہ ہے کہ یتیم لڑکی اپنے ولی کی گود میں ہو (یعنی پرورش میں جیسے چچا کی لڑکی بھتیجے کے پاس ہو) اور شریک ہو اس کے مال میں (مثلاً چچا کے مال میں) پھر اس ولی کو اس کا حسن اور جمال پسند آئے، وہ اس سے نکاح کرنا چاہے لیکن اس کے مہر میں انصاف نہ کرے اور اتنا مہر نہ دے جو اور لوگ دینے کو مستعد ہوں تو منع کیا اللہ نے ایسی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے مگر اس صورت میں جب انصاف کریں اور پورا مہر دینے پر راضی ہوں اور حکم کیا ان کو نکاح کر لیں اور عورتوں سے جو پسند آئے ان کو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگوں نے یہ آیت اترنے کے بعد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لڑکیوں کے باب میں پوچھا: تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ» (۴-النساء: ۱۲۷) آخر تک (اسی سورۂ نساء میں) یعنی ”پوچھتے ہیں تجھ سے عورتوں کے باب میں تو کہہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے ان کے باب میں جن کا تم مقرر مہر نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنا نہیں چاہتے ہو۔“ تو کتاب پڑھے جانے سے مراد پہلی آیت ہے اور یہ آیت اس یتیم لڑکی کے باب میں ہے جو حسن اور مال میں کم ہو تو منع ہوا ان کو اس یتیم لڑکی سے نکاح کرنا جس کے مال اور جمال میں رغبت کریں مگر اس صورت میں کہ جب انصاف کریں۔
