حدیث ۷۵۴۱
صحیح مسلم : ۷۵۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۵۴۱
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ " وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 ، فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ " ،
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کوفہ والوں نے اختلاف کیا اس آیت میں «وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ» (۴-النساء: ۹۳) ”جو کوئی قتل کرے مؤمن کو قصداً اس کا بدلہ جہنم ہے۔“ آخر تک (یہ آیت سورۂ نساء میں ہے)۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں اتری اور اس کو منسوخ نہیں کیا کسی آیت نے۔ (اوپر گزر چکا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب یہ ہے کہ جو کوئی مؤمن کو قتل کرے قصداً، اس کی توبہ قبول نہ ہو گی اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا جمہور علماء اس کے خلاف میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں آیت سے یہ نکلتا ہے کہ بدلہ اس کا یہ ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا پر یہ ضروری نہیں کہ یہ بدلہ خواہ مخوہ دیا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ معاف کر سکتا ہے)۔
