حدیث ۸۱۴
صحیح مسلم : ۸۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۱۴
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ ابْنُ مَنْصُور : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيُّ ، فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ تَمَسُّهُ ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ : إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ ، وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ ، وَالْمَجُوسُ ، نُؤْتَى بِالْكَبْشِ ، قَدْ ذَبَحُوهُ وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ ، وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ ، يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ " .
ابوالخیر سے روایت ہے، میں نے ابن دعلہ کو ایک پوستین پہنے دیکھا میں نے اس کو چھوا۔ انہوں نے کہا: کیوں چھوتے ہو کیا اس کو نجس جانتے ہو؟ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہم مغرب کے ملک میں رہتے ہیں، وہاں بربر کے کافر اور آتش پر ست بہت ہیں وہ بکری لاتے ہیں ذبح کر کے۔ ہم تو ان کا ذبح کیا ہوا جانور نہیں کھاتے اور مشکیں لاتے ہیں ان میں چربی ڈال کر۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا پوچھا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت سے پاک ہو جاتی ہے“ (یعنی چمڑے پر جب دباغت ہوگئی تو وہ پاک ہے اگرچہ کافر نے دباغت کی ہو)۔
