صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۶ - لا الہ الا اللہ اور نیت کی پاکیزگی
لا الہ الا اللہ کہنے والے پر بدگمانی سے بچیں
صحیح مسلم : ۱۴۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۹۶
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي ، وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي ، وَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ ، أَنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّى ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ، حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنْتُ لَهُ ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ ، فَقُمْنَا وَرَاءَهُ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، قَالَ : وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ ، قَالَ : فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : ذَلِكَ مُنَافِقٌ ، لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ ، أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ؟ قَالَ : قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّمَا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ .
عتبان روایت:
سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور بدر میں حاضر ہوئے ہیں اور انصار میں سے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! میری آنکھیں جاتی رہیں اور میں اپنی قوم کی امامت کرتا ہوں، اور جب مینہ برستا ہے نالہ آتا ہے جو میرے اور ان کے بیچ میں ہے تو میں ان کی مسجد نہیں جا سکتا کہ ان کی امامت کروں اور اے اللہ کے رسول میری آرزو ہے کہ آپ تشریف لائیں اور ایک جگہ (میرے گھر میں) نماز پڑھیں تاکہ میں اسے نماز کی جگہ مقرر کر لوں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا میں ایسا ہی کروں گا اگر اللہ نے چاہا۔“سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب کچھ دن چڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آئے تو بیٹھے نہیں اور فرمایا: ”تم کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں تمہارے گھر میں؟“، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک کونا بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہا اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرا۔اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک رکھا تھا گوشت کی کڑی کے واسطے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پکائی تھی اور محلہ کے لوگ بھی آ گئے یہاں تک کہ کئی آدمی جمع ہو گئے گھر میں، سو ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ مالک بن دخشن کہاں ہے؟ تو کسی نے کہا: وہ تو منافق ہے اور اللہ اور اس کے رسول کو دوست نہیں رکھتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ کہو اس کو تم نہیں دیکھتے کہ وہ لا الہٰ الا اللہ کہتا ہے۔ اس کلمہ سے اللہ کی رضا مندی چاہتا ہے۔“لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ پھر ایک شخص نے کہا کہ ہم اس کی توجہ اور خیر خواہی منافقوں کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے آگ پر اس کو جو لا الہٰ الا اللہ کہے اور اس کہنے سے اللہ کی رضا چاہتا ہو۔“ابن شہاب نے کہا: پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے اس روایت کے بارے میں پوچھا جو محمود بن ربیع نے روایت کی ہے۔ سو انہوں (یعنی حصین بن محمد انصاری) نے اس روایت کی تصدیق کی اور وہ یعنی حصین بن محمد انصاری سالم کے سردار ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۶ کا خلاصہ
یہ حدیث کئی اہم باتیں سکھاتی ہے، مگر اس کا نمایاں موضوع لا الہ الا اللہ، نیت، اور مسلمان کے بارے میں زبان کو روکنا ہے۔ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ نے اپنی کمزور بینائی اور راستے میں بارش کے بعد نالہ آنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیں تاکہ وہ اسے نماز کی جگہ بنا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، دو رکعت نماز پڑھائی، اور صحابہ بھی پیچھے کھڑے ہوئے۔ پھر ایک شخص کے بارے میں منافق ہونے کی بات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور یاد دلایا کہ وہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے ایسے شخص کو آگ پر حرام کیا ہے جو لا الہ الا اللہ اللہ کی رضا کے لیے کہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان کے بارے میں سخت بات کہنے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
- لا الہ الا اللہ اللہ کی رضا کے لیے کہنا بہت بڑی بات ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان رضی اللہ عنہ کی ضرورت کا خیال رکھا۔
- گھر میں نماز کی جگہ مقرر کرنے کا واقعہ اس روایت میں موجود ہے۔
