صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۷ - حدیث کی تحقیق اور عتبان رضی اللہ عنہ کا واقعہ

حدیث سن کر تحقیق کرنے کا صحابہ والا انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۹۷

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍكِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ، أَوِ الدُّخَيْشِنِ ؟ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَى عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِيهِ كَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ ، نَرَى أَنَّ الأَمْرَ انْتَهَى إِلَيْهَا ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ .

‏‏‏‏ سیدنا محمود رضی اللہ عنہ نے سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یونس کے ہم معنی روایت بیان کی (یعنی جو اوپر مذکور ہو چکی) مگر اتنی بات زیادہ تھی کہ ایک شخص نے کہا: کہاں ہیں مالک بن دخشن یا (کہا) دخیشن؟ اور یہ بھی زیادہ کیا کہ محمود نے کہا کہ میں نے یہ روایت چند شخصوں میں بیان کی ان میں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے تو انہوں نے کہا کہ میں گمان نہیں کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہو جو تم کہتے ہو۔ سو میں نے قسم کھائی کہ میں جا کر سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ سے پوچھوں گا۔ سو میں ان کے پاس گیا اور ان کو بہت بوڑھا پایا کہ آنکھیں جاتی رہیں تھیں اور وہ اپنی قوم کے امام تھے سو ہم ان کے بازو پر جا بیٹھے اور میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھے سے ویسی ہی بیان کر دی جیسے پہلے بیان کی تھی۔ زہری نے کہا کہ اس کے بعد اور چیزیں فرض ہوئیں اور بہت سے احکام الہٰی اترے کہ جن کو ہم جانتے ہیں کہ کام ان پر ختم ہو گیا۔ پھر جو یہ چاہے کہ دھوکہ نہ کھائے تو ضروری ہے کہ دھوکہ نہ کھائے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۹۷ کا خلاصہ

یہ روایت عتبان رضی اللہ عنہ کے واقعے کی مزید تفصیل بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ محمود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث چند لوگوں کے سامنے بیان کی، جن میں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے اس بات پر تعجب کیا، تو محمود رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ وہ عتبان رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھیں گے۔ پھر وہ عتبان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہیں بہت بوڑھا اور نابینا پایا، اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔ محمود رضی اللہ عنہ نے حدیث پوچھی تو عتبان رضی اللہ عنہ نے وہی بات دوبارہ بیان کی۔ اس روایت کا اصل موضوع حدیث کی تحقیق، عتبان بن مالک کا واقعہ، اور لا الہ الا اللہ کے مضمون کی تصدیق ہے۔ آخر میں زہری کا احتیاط والا جملہ بھی نقل ہوا کہ آدمی دھوکے میں نہ پڑے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث سن کر تحقیق کرنا اچھا اور محتاط طریقہ ہے۔
  • صحابہ روایت کے الفاظ کی تصدیق کا اہتمام کرتے تھے۔
  • عتبان رضی اللہ عنہ بڑھاپے اور نابینائی کے باوجود اپنی قوم کے امام تھے۔
  • دینی بات میں دھوکے یا غلط فہمی سے بچنے کی فکر ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں