حدیث ۲۰۶۳
صحیح مسلم : ۲۰۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۶۳
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ ، فَكَشَف رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ ، وَقَالَ : " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ " . وَقَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے گھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور میرے پاس دو لڑکیاں تھیں منیٰ کے دنوں میں (یعنی ذی الحجہ کی گیارھویں بارھویں وغیرہ میں) گا رہی تھیں اور دف بجاتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو چادر سے لپیٹے ہوئے تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جھڑک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اٹھایا اور فرمایا: ”اے ابوبکر! ان لڑکیوں کو چھوڑ دو، اس لئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں ان حبشیوں کا تماشا دیکھتی تھی جو کھیل رہے تھے اور میں لڑکی تھی تو خیال کرو کہ جو لڑکی کم سن اور کھیل کود کی طالب ہو گی وہ کتنی دیر تک تماشا دیکھے گی۔
