صحیح مسلم حدیث ۳۳۱۸ - مدینہ کی فضیلت اور صبر

مدینہ کی فضیلت: بھوک، پیاس اور مشقت پر صبر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۱۸

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا ، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا " ، وَقَالَ : " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا ، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ،

عامر بن سعد روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے حرم مقرر کر دیا درمیان دونوں میدانوں کالے پتھر والوں کے کہ نہ کاٹا جائے کانٹے دار درخت وہاں کا۔“ اور فرمایا: ”کہ مدینہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے کاش وہ اس کو سمجھتے (یہ خطاب ہے ان لوگوں کو جو مدینہ چھوڑ کر اور جگہ چلے جاتے ہیں یا تمام مسلمانوں کو) اور نہیں چھوڑتا کوئی مدینہ کو مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کوئی آدمی اس میں بھیج دیتا ہے اور نہیں صبر کرتا ہے کوئی اس کی بھوک، پیاس پر اور محنت و مشقت پر مگر میں اس کا شفیع یا گواہ ہوتا ہوں قیامت کے دن۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۳۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کے دونوں کالے پتھریلے میدانوں کے درمیان کو حرم قرار دیا اور فرمایا کہ وہاں کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور شکار نہ مارا جائے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا کہ مدینہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے، کاش وہ جانتے۔ جو شخص مدینہ کو چھوڑتا ہے، اللہ اس سے بہتر شخص کو وہاں لے آتا ہے۔ پھر حدیث میں ایک خاص بات آئی کہ جو شخص مدینہ کی بھوک، پیاس اور مشقت پر ثابت قدم رہتا ہے، قیامت کے دن نبی صلى الله عليه وسلم اس کے لیے شفیع یا گواہ ہوں گے۔ اس روایت کا موضوع فضیلت مدینہ، حرم مدینہ، اور مدینہ کی سختیوں پر صبر ہے۔ یہ وعدہ اسی شخص کے لیے بیان ہوا جو متن میں مذکور حالت پر صبر کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مدینہ کے حرم میں درخت کاٹنے اور شکار کرنے سے منع کیا گیا۔
  • حدیث میں مدینہ کو ان لوگوں کے لیے بہتر کہا گیا جو اس کی قدر سمجھیں۔
  • مدینہ کی بھوک، پیاس اور مشقت پر ثابت قدم رہنے والے کے لیے شفاعت یا گواہی کا ذکر آیا۔
  • مدینہ چھوڑنے والے کے بدلے بہتر شخص کے آنے کا بیان حدیث میں موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں