صحیح مسلم حدیث ۳۵۸۸ - ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا سوال

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: بہن اور رضاعی بھتیجی کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۸۸

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ شِهَابٍ ، كَتَبَ يَذْكُرُ ، أَنَّ عُرْوَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَتْهَا ، أَنَّهَا قَالَت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبِّينَ ذَلِكِ " ، فقَالَت : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ ، وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ، فقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي " ، قَالَت : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : " بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ " ، قَالَت : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ " .

ام حبیبہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہ تو یہ بات پسند کرتی ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ہاں اے اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے مخل ہونے والی نہیں ہوں اور زیادہ پسند کرتی ہوں یہ بات کہ خیر میں کسی غیر کے بجائے میری بہن شریک ہو۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ یہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔“تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہم باتیں کر رہے تھے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ ابو سلمہ کی بیٹی سے؟“ انہوں نے کہا ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ میری گود میں ربیبہ نہ ہوتی تو بھی وہ مجھ کو حلال نہ ہوتی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور اس کے باپ ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے اس لیے تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نہ پیش کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزہ سے نکاح کر لیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں، کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ خیر میں ان کی بہن شریک ہو۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے جائز نہیں۔ پھر درہ بنت ابی سلمہ کے بارے میں بات ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی ربیبہ نہ بھی ہوتیں تو بھی حلال نہ ہوتیں، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہیں۔ حدیث میں ثوبیہ کے دودھ پلانے کا ذکر بھی آیا۔ اس سے محرمات نکاح، ربیبہ، رضاعی بھتیجی اور دو بہنوں سے نکاح کا حکم سمجھ میں آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح کے مشورے میں محرم رشتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • ایک بہن کا اپنی بہن کے لیے خیر چاہنا حدیث کے متن میں موجود ہے، مگر حکم شرعی کے تابع ہے۔
  • ربیبہ اور رضاعی بھتیجی کے رشتے اس روایت میں نکاح کے لیے مانع بتائے گئے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے پیش نہ کرو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں