حدیث ۳۸۷۸
صحیح مسلم : ۳۸۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۷۸
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : أَنْ يُبَاعَ ثَمَرُ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ : أَنْ يُبَاعَ الزَّرْعُ بِالْقَمْحِ ، وَاسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْقَمْحِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ " . وقَالَ سَالِمٌ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ " .
ابن شہاب نے روایت کی سعید بن المسیب سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا مزابنہ سے اور محاقلہ سے۔ مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر کی کھجور خشک کھجور کے بدلے بیچی جائے اور محاقلہ یہ ہے کہ بالی میں گیہوں یعنی کھیپ بیچا جائے گیہوں کے بدلے۔ اور منع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر لینے سے گیہوں کے بدلے (یعنی ان گیہوں کے بدلے جو اسی زمین سے پیدا ہوں گے)۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت بیچو میوہ کو جب تک اس کی صلاحیت معلوم نہ ہو اور مت بیچو درخت پر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے۔“ اور سالم نے کہا: مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا انہوں نے سنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی اس کے بعد عریہ میں رطب یا تمر کے بدلے میں اور سوا عریہ کے اور کسی کی اجازت نہیں دی۔
