حدیث ۶۲۰۷
صحیح مسلم : ۶۲۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۰۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ ، جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ ، قَمِيصَهُ أَنْ يُكَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ ، فَأَعْطَاهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً ، وَسَأَزِيدُ عَلَى سَبْعِينَ ، قَالَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84 " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے وفات پائی (جو بڑا منافق تھا) تو اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ آپ اپنا کرتہ میرے باپ کے کفن کے لیے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دیا، پھر اس نے کہا: آپ اس پر نماز پڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اس پر نماز پڑھنے کے لیے، سیدنا عم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا تھاما اور فرمایا: یا رسول اللہ! کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا اس پر نماز پڑھنے سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ا ”ختیار دیا تو فرمایا: تو ان کے لیے دعا کرے یا نہ کرے اگر ستر بار دعا کرے گا اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بخشےگا، تو میں ستر بار سے زیادہ دعا کروں گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق تھا آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی تب یہ آیت اتری «وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ» (۹-التوبۃ: ۸۴) ”مت نماز پڑھ کسی منافق پر جو مر جائے اور مت کھڑا ہو اس کی قبر پر۔“ (تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے اللہ تعالیٰ نے پسند کی)۔
