صحیح مسلم حدیث ۶۳۰۹ - فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور دل آزاری سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۳۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۰۹
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ ، " أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، فَقَالَ لَهُ : هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : لَا ، قَالَ لَهُ : هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ ، وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ ، لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي ، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ ، فَقَالَ : إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي ، وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ، قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ ، فَأَحْسَنَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي ، فَأَوْفَى لِي ، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا ، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا " .
زین العابدین علی بن حسین روایت:
وہ جب مدینہ میں آئے یزید بن معاویہ کے پاس سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد تو ملے ان سے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور پوچھا: آپ کا کچھ کام ہو تو مجھ کو حکم فرمائیے۔ سیدنا زین العابدین نے فرمایا: کچھ نہیں، مسور نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار مجھ کو دے دیتے کیونکہ میں ڈرتا ہوں لوگ آپ سے زبردستی اس کو چھین نہ لیں، اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھ کو دے دیں گے تو کوئی اس کو نہ لے سکے گا جب تک میری جان میں جان ہے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیام دیا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سناتے تھے لوگوں کو اس منبر پر اور ان دنوں میں بالغ ہو چکا تھا، آپ نے فرمایا: ”فاطمہ میرے بدن کا ایک ٹکڑا ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ ان کے دین پر کوئی آفت آئے“، پھر بیان کیا اپنے ایک داماد کا جو عبد شمس کی اولاد میں سے تھے (یعنی سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا) اور تعریف کی ان کی رشتہ داری کی اور فرمایا: انہوں نے ”جو بات مجھ سے کہی وہ سچ کہی اور جو وعدہ کیا وہ پورا کیا اور میں کسی حلال کو حرام نہیں کرتا اور نہ حرام کو حلال کرتا ہوں لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہ ہوں گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۳۰۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے منبر پر سنا کہ فاطمہ مجھ سے ہیں، اور مجھے ڈر ہے کہ ان کے دین پر کوئی آزمائش آئے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک داماد کا اچھے انداز میں ذکر فرمایا کہ اس نے بات سچی کہی اور وعدہ پورا کیا۔ ساتھ ہی آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ میں کسی حلال کو حرام نہیں کرتا اور نہ کسی حرام کو حلال کرتا ہوں، لیکن اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوں گی۔ اس حدیث کا اصل موضوع سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عزت، دین کی حفاظت، اور گھر کے حساس معاملے میں صاف بات کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دین اور دل دونوں کا خیال فرمایا۔
- سچی بات اور وعدہ پورا کرنا قابل تعریف عمل ہے۔
- حلال و حرام کا حکم اپنی جگہ رہتا ہے، مگر بعض حالات میں تکلیف کے پہلو کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
- اہل بیت کے احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
