صحیح مسلم حدیث ۶۳۱۰ - فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی

فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی اور گھر کے فیصلے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۱۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ ، قَالَ الْمِسْوَرُ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ ، فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي ، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا ، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا ، قَالَ : فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ " .

مسور بن مخرمہ روایت:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیام دیا اور ان کے نکاح میں سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئيں اور عرض کیا، آپ کے لوگ کہتے ہیں کہ آپ اپنی بیٹیوں کے لیے غصے نہیں ہوتے اور یہ علی ہیں جو ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں؟مسور نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور تشہد پڑھا، پھر فرمایا: ”میں نے اپنی لڑکی کا نکاح (زینب کا) ابوالعاص بن ربیع سے کیا اس نے جو بات مجھ سے کہی سچ کہی اور فاطمہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی میرے گوشت کا ٹکڑا ہے اور مجھے برا لگتا ہے کہ لوگ اس کے دین پر آفت لائیں (یعنی جب علی دوسرا نکاح کریں گے تو شاید سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رشک کی وجہ سے کوئی بات اپنے خاوند کے خلاف کہہ بیٹھیں یا ان کی نافرمانی کریں اور گنہگار ہوں) اور اللہ کی قسم! رسول اللہ کی لڑکی اور عدواللہ (اللہ کے دشمن) کی لڑکی دونوں ایک مرد کے پاس جمع نہ ہوں گی۔“ یہ سن کر سیدنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیام چھوڑ دیا (یعنی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ موقوف کیا)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۱۰ کا خلاصہ

اس روایت میں بیان ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لیے پیام دیا، جبکہ ان کے نکاح میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی تو وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خطبہ دیا، ابوالعاص بن ربیع کا ذکر کیا کہ اس نے سچ کہا، پھر فرمایا کہ فاطمہ بنت محمد میرے گوشت کا ٹکڑا ہے، اور مجھے پسند نہیں کہ لوگ اسے آزمائش میں ڈالیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک مرد کے پاس جمع نہیں ہوں گی۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیام چھوڑ دیا۔ یہ حدیث دلجوئی، بیٹی کی عزت، اور گھر کے نازک فیصلوں میں حکمت کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر کے فیصلوں میں بیوی کے احساسات کا خیال رکھا جانا چاہیے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دل آزاری کو پسند نہیں فرمایا۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بات سن کر اپنا ارادہ چھوڑ دیا۔
  • سچ بولنے اور وعدہ پورا کرنے کی تعریف کی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں