حدیث ۶۳۱۸

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۱۸

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : " انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ ، فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيكِ ؟ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا " .

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے ساتھ چلو ام ایمن رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے ہم ان سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جایا کرتے تھے ان سے ملنے کے لیے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں دونوں صاحبوں نے کہا تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس جو سامان ہے اس کے رسول کے لیے وہ بہتر ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی لیکن میں اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں