حدیث ۶۴۱۲
صحیح مسلم : ۶۴۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو : " أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ ، وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ : لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ ، فَأَتَاهُمْ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ ؟ قَالُوا : لَا ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَخِي " .
سیدنا عائذ بن عمرو سے روایت ہے، ابوسفیان، سلمان، صہیب اور بلال رضی اللہ عنہم کے پاس آیا اور بھی چند لوگ بیٹھے تھے انہوں نے کہا: اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردن پر اپنے موقع پر نہ پہنچیں (یعنی یہ اللہ کا دشمن نہ مارا گیا)، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نےکہا: تم قریش کے بوڑھے اور سردار کے حق میں ایسا کہتے ہو۔ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مصلحت سے ایسا کہا کہ کہیں ابوسفیان ناراض ہو کر اسلام بھی قبول نہ کرے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ سے بیان کیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تم نے شاید ناراض کیا ان لوگوں کو (یعنی سلمان اور صہیب اور بلال رضی اللہ عنہم کو) اگر تم نے ان کو ناراض کیا تو اپنے پروردگار کو ناراض کیا۔“ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے بھائیو! میں نے تم کو ناراض کیا۔ وہ بولے: نہیں، اللہ تم کو بخشے اے ہمارے بھائی۔
